Followers
?php>
Nomination Form for APCA Pakistan Shaheed Saqi
Membership in AGEGA Led by Rehman Bajwa
Tuesday, November 04, 2025
طبِ اسلامی میں معدے کی اصلاح، خوراک کے اعتدال، اور کھانے پینے کے صحیح طریقوں کو غیر معمولی اہمیت
اس لیے طبِ اسلامی میں معدے کی اصلاح، خوراک کے اعتدال، اور کھانے پینے کے صحیح طریقوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی روایت: بیماریوں کا گھر معدہ ہے نبی کریم ﷺ سے روایت ہے: > "المعدة بیت الداء، والحمّیة رأس الدواء" "معدہ بیماریوں کا گھر ہے، اور پرہیز علاجوں میں سب سے بہترین علاج ہے۔" یہ روایت طبِ اسلامی کے اس کلی اصول کو واضح کرتی ہے کہ: 1. اگر معدہ خراب ہو جائے تو جسم کے اکثر اعضاء متاثر ہوتے ہیں۔ 2. پرہیز (حِمیۃ) ہر قسم کے علاج کی بنیاد ہے۔ یعنی غذا اور طرزِ غذا انسان کی صحت یا بیماری کا بنیادی تعین کرتی ہے۔ جسم کی عادت (Habit) اور علاج ائمہ اطہارؑ کی تعلیمات کے مطابق: جسم جن چیزوں کا عادی ہو جاتا ہے، اکثر اوقات اُنہی چیزوں سے اس کی اصلاح بھی ممکن ہوتی ہے۔ البتہ! اس سے حرام اشیاء ہرگز مراد نہیں۔ اگر کسی نے غلط، مضر یا حرام چیز کو عادت بنا لیا ہو تو اس کا علاج یہ نہیں کہ اسے وہی چیز دوبارہ دے دی جائے۔ ائمہ علیہم السلام کی روایات میں علاج کا اصول ہمیشہ: پاکیزہ، فطری، شرعی اور بدن کیلئے مفید اشیاء پر مبنی ہے۔ لہٰذا ”جسم کی عادت“ کا اصول صرف حلال، طیب اور مضرّت سے خالی اشیاء کے لیے قابلِ قبول ہے۔ --- معدہ — بیماریوں کا مرکز کیوں؟ طبِ اسلامی کے مطابق معدہ اس لیے بیماریوں کا ذریعہ بنتا ہے کہ: کھانے پینے کی چیزیں سب سے پہلے معدے میں داخل ہوتی ہیں۔ اگر غذا صحیح نہ ہو، بے وقت ہو، زیادہ ہو، یا مضر ہو تو اسی مقام سے امراض پورے جسم میں پھیلتے ہیں۔ خون کی کیفیت، ہاضمہ، قوتِ مدافعت، اعصاب اور کلی صحت سب معدے سے جڑی ہیں۔ لہٰذا معدے کی اصلاح = پورے بدن کی اصلاح اور معدے کا فساد = اکثر امراض کی ابتدا --- قرآن مجید کی ہدایت: کھاؤ، پیو، مگر اسراف نہ کرو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: > "کُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا اِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ" “کھاؤ اور پیو، لیکن اسراف (زیادتی/حد سے بڑھنا) نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔” یہ آیت طبِ اسلامی میں غذا اور صحت کے تمام اصولوں کی بنیاد ہے۔ --- علامہ طباطبائیؒ کی وضاحت — تفسیر المیزان علامہ طباطبائیؒ اس آیت کی تفسیر میں اسراف کی تعریف کرتے ہیں: > "اسراف ہر وہ عمل ہے جس میں انسان اعتدال سے تجاوز کرے۔" یعنی: کھانے میں زیادتی اسراف ہے۔ کھانے کی کمی بھی — اگر بدن کی ضرورت سے کم ہو — تو اس میں بھی حد سے تجاوز ہے۔ ہر چیز کا ایک فطری اور جسمانی توازن ہے؛ اسی توازن کو توڑنے کا نام اسراف ہے۔ لہٰذا اسراف کی ممانعت ایک طبی اصول بھی ہے اور اخلاقی و دینی حکم بھی۔ --- نتیجہ: معدہ، صحت اور بیماری کا مرکز اس حصے کا خلاصہ یہ بنتا ہے: اکثر بیماریوں کی جڑ معدہ ہے۔ صحیح خوراک = صحت غلط خوراک = بیماری پرہیز (حمیّت) ہر علاج کی بنیاد ہے۔ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام نے اعتدال، بے جا کھانے سے پرہیز، اور اسراف سے دوری کو لازمی قرار دیا ہے۔ معدے کی اصلاح، غذائی نظم، اور طیب غذا کے بغیر کوئی علاج مکمل نہیں ہوتا۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
APCA_SAQI


No comments:
Post a Comment