ہم، ایپکا پاکستان (شہید ساقی گروپ) اور ملازم اتحاد سندھ کی جانب سے صوبہ سندھ کے چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں یہ گزارش پیش کرتے ہیں کہ موجودہ شدید مہنگائی، بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور وفاقی و صوبائی ملازمین کے درمیان بڑھتی ہوئی مراعاتی تفریق نے سندھ کے سرکاری ملازمین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
ہم احتجاج اور محاذ آرائی کے قائل نہیں، لیکن جب جائز آئینی حقوق مسلسل نظر انداز ہوں تو خاموشی بھی ناانصافی کے مترادف بن جاتی ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو مساوات اور یکساں سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔ جب ملک ایک ہے، قانون ایک ہے اور سرکاری ملازمین ایک ہی ریاست کی خدمت انجام دے رہے ہیں تو مراعات اور تنخواہوں میں امتیازی فرق کسی صورت انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مطالبہ نمبر 1
وفاقی طرز پر ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) اور 52 تا 55 فیصد ریلیف
وفاقی حکومت اپنے ملازمین کو درج ذیل ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) دے چکی ہے:
- یکم جولائی 2021ء : 25 فیصد
- یکم مارچ 2022ء : 15 فیصد
- یکم جولائی 2025ء : 30 فیصد
- مجوزہ مالی سال 2026-27 : 15 فیصد
کل وفاقی ریلیف = 85 فیصد
جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے Differential Allowance کی مد میں:
- گریڈ 1 تا 15 = 34.35 فیصد
- گریڈ 16 تا 22 = 31.70 فیصد
اس طرح:
- گریڈ 1 تا 15 کے ملازمین کو وفاق کے مقابلے میں 50.65 فیصد کم ریلیف ملا۔
- گریڈ 16 تا 22 کے ملازمین کو وفاق کے مقابلے میں 53.30 فیصد کم ریلیف ملا۔
لہٰذا سندھ حکومت وفاقی طرز پر DRA 2025 (30 فیصد) اور DRA 2026 (15 فیصد) منظور کرتے ہوئے سندھ کے تمام ملازمین کو کم از کم 52 تا 55 فیصد مجموعی ریلیف فراہم کرے تاکہ صوبائی اور وفاقی ملازمین کے درمیان موجود معاشی تفریق کا خاتمہ ہو سکے۔
مطالبہ نمبر 2
ریٹائرمنٹ پر گروپ انشورنس اور بہبود فنڈ کی رقم بلوچستان طرز پر یکمشت ادا کی جائے اور "مرنے کی شرط" کا خاتمہ کیا جائے۔
مطالبہ نمبر 3
تمام ایڈہاک ریلیف ضم کرکے ریوائزڈ پے اسکیل 2026 نافذ کیا جائے۔
مطالبہ نمبر 4
جولائی 2024 کے بعد نافذ کردہ پنشن قوانین واپس لے کر پرانا پنشن فارمولا بحال کیا جائے اور پنشن کنٹری بیوشن کی کٹوتی ختم کی جائے۔
مطالبہ نمبر 5
تنخواہوں میں 55 فیصد اضافہ اور کم از کم اجرت
مالی سال 2026-27 میں تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 55 فیصد اضافہ کیا جائے اور کم از کم اجرت 50,000 روپے ماہانہ مقرر کی جائے۔
مطالبہ نمبر 6
صوبہ سندھ کے تعلیمی، صحت اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری فوری طور پر بند کی جائے۔
مطالبہ نمبر 7
گریڈ 1 تا 4 کے کلاس فور ملازمین کو سیکریٹریٹ طرز پر ٹائم اسکیل دیا جائے اور 15 فروری 2019 کی منظور شدہ سمری پر عملدرآمد کیا جائے۔
مطالبہ نمبر 8
گریڈ 1 تا 17 کے تمام دفتری، ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل ملازمین کو وفاقی طرز پر ٹائم اسکیل دیا جائے۔
مطالبہ نمبر 9
ہاؤس ہائرنگ، ہاؤس رینٹ، میڈیکل اور کنوینس الاؤنس میں مکمل مساوات قائم کی جائے اور سیکریٹریٹ و لائن ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کے درمیان تفریق ختم کی جائے۔
مطالبہ نمبر 10
میڈیکل، کنوینس اور یوٹیلیٹی الاؤنسز میں 200 فیصد اضافہ کیا جائے اور تمام سرکاری ملازمین کو انکم ٹیکس و پروفیشنل ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے۔
مطالبہ نمبر 11
سندھ کے پرائمری اساتذہ کے لیے واضح سروس اسٹرکچر منظور کیا جائے اور لوکل گورنمنٹ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بینکنگ چینل کے ذریعے یقینی بنائی جائے۔
گزارش
محترم وزیراعلیٰ سندھ!
سندھ کے سرکاری ملازمین صوبے کی انتظامی، تعلیمی، طبی اور ترقیاتی مشینری کا بنیادی ستون ہیں۔ ان کے مسائل کا حل دراصل عوامی خدمت کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ سندھ کابینہ کے ذریعے ان جائز، آئینی اور قانونی مطالبات کی منظوری دے کر لاکھوں ملازمین اور ان کے اہل خانہ میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کریں گے۔
یہ حق ہے، خیرات نہیں
ایک ملک، ایک قانون، ایک گریڈ، ایک مساوی ریلیف
والسلام
ایم۔ اے۔ بھرگڑی
مرکزی وائس چیئرمین
ایپکا پاکستان (شہید ساقی
ملازم اتحاد سندھ
موبائل: 03003049882
ویب سائٹ: www.apcapk.com


No comments:
Post a Comment